کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ مگر کیوں؟ عالمی ادارہِ صحت کی ہدایات کی دھجیاں اڑا دیں

کورونا وائرس
کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں واضح کمی نہ ہونے کی وجہ سے جہاں چند ممالک نے لاک ڈائون میں اضافہ کرنے سمیت اسے مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، وہیں کچھ ممالک نے اس میں نرمی کرنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔

کورونا وائرس کے باعث لاک ڈان میں اضافہ کرنے والے ممالک میں پاکستان، بھارت اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک شامل ہیں، تاہم اس میں نرمی کا فیصلہ کرنے والے ممالک میں وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اسپین بھی شامل ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اسپین کی حکومت نے اعلان کیا کہ 13اپریل سے ملک میں لاک ڈان میں نرمی کردی جائے گی جب کہ اس سے قبل ایران جیسے ملک نے بھی لاک ڈائون میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لاک ڈائون میں نرمی کرنے میں جلدی نہ کرنے کی ہدایات کے باوجود اسپین نے 13 اپریل سے کچھ نرمیوں کا اعلان کردیا۔لاک ڈائون میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہدایت نامے میں کاروباری اداروں کو تاکید کی گئی کہ وہ حفاظتی انتظامات کو یقینی بناتے ہوئے کم سے کم لوگوں کے ساتھ کاروبار شروع کردیں۔

حکومت نے لاک ڈائون میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے کنسٹرکشن اور مینیوفیکچرنگ کرنے والی کمپنیوں کو بھی کام کی اجازت دی ہے اور انہیں ہدایات کی ہیں کہ وہ نہ صرف کم سے کم افراد کے ساتھ کام شروع کریں بلکہ وہ کام والے افراد کو حفاظتی لباس و آلات بھی فراہم کریں۔اسپین کے وزیر داخلہ اور وزیر صحت نے لاک ڈان کو نرم کرنے کے حکومتی فیصلے پر ہونے والی تنقید کو بے جا قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک بھر میں ایک کروڑ فیس ماسک بھی تقسیم کرے گی جب کہ کسی بھی جگہ زیادہ لوگوں کو اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔‎

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet