فائر ٹینڈرز، کراچی پورٹ ٹرسٹ تک مقیم کرنے کیلئے لائے گئے ہیں
رپورٹ: فرقان فاروقی
کراچی دنیا کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں آگ بجھانے کیلئے بلدیہ عظمی کراچی میں فائربریگیڈ کا محکمہ موجود ہے لیکن اس میں سہولیات کا فقدان موجود ہے طویل وعریض سطح تک پہنچنے والی اسنارکلز کی موجودگی کے باوجود یہ محکمہ آگ بجھانے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے سے محروم ہے، وفاقی حکومت کے تعاون سے چین سے ایک ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے سہولیات سے آراستہ 50 فائرٹینڈرز اسوقت آچکے ہیں لیکن کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی نہ ہونے سے اب بھی کراچی پورٹ ٹرسٹ کے شیلٹرز کے نیچے موجود ہیں اور ہر گزرتے دن کے بعد ان کی کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ ہورہا ہے یاد رہے کہ ماضی میں کالعدم شہری حکومت کے دور میں بھی اس قسم کی مشینری بیرون ملک سے آئ تھی جو کسٹم ڈیوٹی ادا نہ ہونے کی وجہ سے اتنی بھاری بھرکم ہوگئ تھی کہ شہری حکومت نے بمشکل اسے کراچی پورٹ ٹرسٹ سے آزاد کروایا لیکن جب یہ مشینری آن روڈ ہوئ تو کافی عرصے کھڑے رہنے کی وجہ سے خراب ہوگئیں جس کی اہم وجہ سمندری آب وہوا ہے اب دوبارہ کافی عرصے تک فائرٹینڈرز کو بھی یہیں رکھا گیا تو فائر ٹینڈرز خراب ہوسکتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ان فائرٹینڈرز کو دانستہ طور پر کراچی پورٹ ٹرسٹ پر رکھا جارہا ہے کیونکہ ان کے باہر آتے ہی ان کی افتتاحی تقریب کے معاملے کو تحریک انصاف اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی جبکہ تاحال یہ ابہام ہے کہ اس کا افتتاح وزیراعظم کریں گے یا گورنر سندھ اور اس ابہام کی وجہ سے تاحال فائرٹینڈرز کراچی پورٹ ٹرسٹ سے باہر نہیں لائے جاسکیں ہیں لہذا اب کراچی کو آگ بجھانے کی مشینی سہولیات سیاسی منظر نامے میں تبدیل ہوچکی ہیں، یقینی طور پر کراچی کے حوالے سے سالوں بعد کوئ بڑا کام ہونے جارہا ہے جسے کیش کروایا جانا ضروری ہے اور سیاسی طور پر اس کا حق تحریک انصاف کو ہی جاتا ہے لیکن جو طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے اسے درست قرار نہیں دیا جاسکتا.



