کراچی: نیب کی بڑی کارروائی، 3 اہم ٹاؤنز کا سالوں پرانا ریکارڈ طلب، کرپشن کے خلاف گھیرا تن
**کراچی (ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے شہر کے تین بڑے علاقوں اورنگی ٹاؤن، مومن آباد ٹاؤن اور منگھوپیر ٹاؤن کے بلڈنگ اینڈ روڈ (B&R) ڈیپارٹمنٹ پر دیر رات گئے تک چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔ یہ اقدام ترقیاتی کاموں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور عوامی شکایات پر اٹھایا گیا ہے۔
### ترقیاتی فنڈز کی چھان بین اور ریکارڈ پر قبضہ
ذرائع کے مطابق نیب حکام کو عوامی سطح پر متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں ترقیاتی کاموں میں ناقص مٹیریل کے استعمال اور فنڈز کی خورد برد کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ابتدائی مرحلے میں نیب نے درج ذیل اہم اقدامات اٹھائے ہیں:
7 سالہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال سال 2013 سے لے کر 2020 تک کے تمام ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ قبضے میں لے کر اس کی اسکروٹنی شروع کر دی گئی ہے۔
او زی ٹی (OZT) فنڈز کا آڈٹ او زی ٹی فنڈز سمیت دیگر مد میں ترقیاتی کاموں کے لیے جاری ہونے والی بھاری رقوم کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔
لائبلیٹیز کی تفصیلات نیب نے نئے شروع کیے گئے کاموں کی فہرست اور ماضی کی ادائیگیوں (Liabilities) کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
سابق ایڈمنسٹریٹرز اور افسران کے گرد گھیرا تنگ
نیب کراچی نے کارروائی کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مذکورہ سالوں کے دوران تعینات رہنے والے:
1. سابقہ ایڈمنسٹریٹرز
2. میونسپل کمشنرز
کی فہرستیں بھی طلب کر لی ہیں تاکہ کرپشن میں ملوث اصل چہروں کا تعین کیا جا سکے۔
عوام کے پیسے پر کسی کو عیاشی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بدعنوانی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”**
*نیب کراچی کا عزم*
ہمارا مقصد ہراساں کرنا نہیں، احتساب ہےnab karachi
نیب حکام کا کہنا ہے کہ بیورو کی پالیسی کسی کو بھی بلاوجہ یا زبردستی ہراساں کرنے کی نہیں ہے۔ ادارہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کر رہا ہے اور کارروائی کا نشانہ صرف اور صرف وہی عناصر بنیں گے جو براہِ راست کرپشن اور عوامی فنڈز کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے جائیں گے۔
مقامی حلقوں کی جانب سے نیب کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے بلدیاتی منصوبوں میں شفافیت دیکھنے کو ملے گی۔
