کراچی، جسے روشنیوں کا شہر اور پاکستان کا معاشی انجن کہا جاتا ہے، اس وقت ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف یہ شہر پورے ملک کو پالتا ہے، تو دوسری طرف خود بنیادی ترین سہولیات کے لیے ترس رہا ہے۔
روشنیوں کا شہر اندھیروں میں کیوں؟ کراچی کے موجودہ حالات اور سلگتے مسائل
تحریر: فرقان فاروقی
کراچی صرف ایک شہر نہیں، بلکہ پاکستان کا دل ہے جو ملک کی معیشت میں 60 فیصد سے زائد کا حصہ ڈالتا ہے۔ لیکن آج اس شہرِ قائد کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، ابلتے ہوئے گٹر، گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ، پانی کی شدید قلت اور سب سے بڑھ کر “اسٹریٹ کرائم” کا وہ جن جو کسی کے قابو میں نہیں آ رہا۔
آخر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟ آئیے کراچی کے موجودہ حالات کا ایک کڑوا لیکن سچ پر مبنی جائزہ لیتے ہیں۔
امن و امان کی صورتحال: اسٹریٹ کرائم کا راج
کراچی کا سب سے بڑا اور سنگین ترین مسئلہ اسٹریٹ کرائم بن چکا ہے۔ موبائل فون، بائیک یا گاڑی چھن جانا اب ایک عام بات ہو چکی ہے، لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ اب ڈاکو صرف لوٹتے نہیں بلکہ مزاحمت پر سڑک بیچ شہریوں کو گولی مار دیتے ہیں۔
عوام میں خوف و ہراس گلشنِ اقبال، کورنگی، شاہ فیصل، اور ناظم آباد جیسے گنجان آباد علاقوں میں لوگ شام کے بعد گھروں سے نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کا کردار پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہیں، جس کی وجہ سے عوام کا قانون پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔
انفراسٹرکچر کی تباہی اور بلدیاتی نظام کی ناکامی
کراچی کے موجودہ حالات کی دوسری بڑی وجہ یہاں کا تباہ حال انفراسٹرکچر ہے۔ نئے بلدیاتی ٹاؤنز تو بنا دیے گئے، لیکن اختیارات اور فنڈز کی جنگ میں نقصان صرف عام شہری کا ہو رہا ہے۔
ٹوٹی سڑکیں اور ٹریفک جام شہر کی شاید ہی کوئی ایسی بڑی سڑک ہو جو گڑھوں اور مٹی سے پاک ہو۔ یونیورسٹی روڈ ہو، کورنگی انڈسٹریل ایریا کی سڑکیں ہوں یا ملیر کی گلیاں، ہر جگہ سڑکیں تباہ ہیں، جس سے گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے اور حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔
سیوریج اور کچرے کے ڈھیر سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ اور مئیر کراچی کے دعوؤں کے باوجود گٹروں کا گندا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے، اور کچرا اٹھانے کا کوئی مستقل نظام وضع نہیں کیا جا سکا۔
پانی اور بجلی کا بحران شہریوں کا دوہرا عذاب
کراچی کے باسی اس وقت پانی اور بجلی کی دوہری مار جھیل رہے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں بھی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم نہیں ہوتا، اور اوپر سے کے-الیکٹرک کے بھاری بلوں نے غریب اور مڈل کلاس طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
دوسری طرف، ہائیڈرنٹ مافیا عروج پر ہے۔ سرکاری لائنوں میں پانی نہیں آتا، لیکن اگر آپ مہنگے داموں ٹینکر منگوانا چاہیں تو پانی منٹوں میں حاضر ہو جاتا ہے۔ یہ نظام کی وہ صریح ناکامی ہے جس کا خمیازہ صرف عوام بھگت رہے ہیں۔
حل کیا ہے؟ کراچی کو بچانے کا راستہ
کراچی کے حالات کو صرف بیانات یا کاغذی دعوؤں سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے:
لوکل پولیسنگ (Local Policing) کراچی کی پولیس میں مقامی نوجوانوں کو شامل کیا جائے جو شہر کے چپے چپے اور گلیوں سے واقف ہوں، تاکہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پایا جا سکے۔
سخت مانیٹرنگ اور سی سی ٹی وی کیمرے پورے شہر کو سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس کیا جائے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو فعال بنایا جائے۔
بلدیاتی اداروں کی جوابدہی:** تمام ٹاؤنز کو فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ پابند کیا جائے کہ وہ عوام کو کارکردگی دکھائیں۔
حاصل کلام (Conclusion)
کراچی صرف ٹیکس دینے والی مشین نہیں ہے، یہ بیس کروڑ انسانوں کے ملک کا معاشی سہارا ہے۔ اگر کراچی خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس شہر کو بچانے کے لیے سرجیکل آپریشن اور ہنگامی ترقیاتی کام شروع کریں۔
