سنسنی خیز انکشاف: عید سے قبل کورنگی ٹاؤن میں کروڑوں کا مبینہ غبن؟ چیئرمین حج پر، ملازمین فاقوں پر، نیب سے حساب کرنے کا مطالبہ
کراچی (اسپیشل رپورٹ)
عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے، جہاں پوری دنیا میں ملازمین کو وقت سے پہلے تنخواہیں اور بونس دیے جا رہے ہیں، وہی کراچی کے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) کورنگی میں ایک ایسا سنسنی خیز ڈرامہ سامنے آیا ہے جس نے سب کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ ٹاؤن چیئرمین کی مبینہ ہٹ دھرمی اور کروڑوں روپے کی مبینہ کٹوتی کے خلاف اب عوامی اور صحافتی حلقوں نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے فوری مداخلت اور کڑے احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ٹاؤن چیئرمین بضد، ڈیپارٹمنٹ کا بغاوت کا اعلان!
ذرائع سے ملنے والی اندرونی کہانی کے مطابق، عید جیسے بڑے تہوار پر جہاں غریب ملازمین کی جیبیں بھری ہونی چاہئیں، وہاں ٹاؤن چیئرمین کی ایما پر ٹی ایم سی کورنگی کی تنخواہوں کی ادائیگی ہی روک دی گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹاؤن چیئرمین اس بات پر بضد ہیں کہ ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری کٹوتی کی جائے، لیکن متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے غیور افسران نے یہ ظلم ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے ایک طرح سے بغاوت کا اعلان کر دیا ہے۔ افسران کا دوٹوک مؤقف ہے کہ عید پر کٹوتی غریبوں کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔
گزشتہ ماہ کے سوا دو کروڑ روپے کہاں گئے؟ بڑا سوالیہ نشان!
اس پوری کہانی کا سب سے بڑا اور دھماکے دار پہلو یہ ہے کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ بھی کورنگی ٹاؤن کے ملازمین کی تنخواہوں سے دو سے سوا دو کروڑ روپے کی خطیر رقم مبینہ طور پر کاٹی گئی تھی۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ یہ کروڑوں روپے آخر کس کے اکاؤنٹ میں گئے؟ اس کا حساب دینے والا کوئی نہیں ہے۔
“ایک طرف غریب ملازمین کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، دوسری طرف ٹاؤن چیئرمین صاحب فریضہ حج ادا کرنے جا چکے ہیں! یہ کیسی عبادت ہے جہاں اپنے ماتحتوں کو خون کے آنسو رولایا جا رہا ہو؟” — عوامی حلقوں کا شدید ردعمل
اب بات نیب تک پہنچے گی: کڑے احتساب کا وقت آ گیا!
معاملہ اب صرف تنخواہوں کی تاخیر کا نہیں رہا بلکہ ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ آواز شدت سے گونج رہی ہے کہ “نیب کو اب خاموش تماشائی بننے کے بجائے ٹاؤن چیئرمین کورنگی سے ایک ایک پائی کا حساب لینا چاہیے!”
مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیب فوری طور پر کورنگی ٹاؤن کا ریکارڈ ضبط کرے، گزشتہ ماہ غائب ہونے والے کروڑوں روپے کا سراغ لگائے اور عید سے پہلے ملازمین کو ان کا پورا حق دلوا کر کرپشن مافیا کو بے نقاب کرے۔
