کراچی بلدیاتی اداروں کی کارکردگی اور عوامی شکایات، مسائل کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت
خاص رپورٹ: فرقان فاروقی
کراچی: روشنیوں کے شہر کراچی کے مختلف ٹاؤنز میں بلدیاتی اور انتظامی مسائل ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ملیر، کورنگی، شاہ فیصل ٹاؤن اور دیگر مضافاتی علاقوں کے مکینوں نے انتظامیہ کی سرد مہری اور ترقیاتی کاموں میں سستی کے خلاف شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
سیوریج کا ابلتا ہوا نظام اور خستہ حال سڑکیں
شہر کے بیشتر گلی محلوں میں سیوریج کا گندا پانی جمع ہونا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ گٹر ابلنے کے باعث نہ صرف سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں بلکہ وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ بھی لاحق ہو گیا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ “انتظامیہ کو بارہا شکایات درج کروانے کے باوجود کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا، اور عملہ صرف عارضی طور پر پانی نکال کر غائب ہو جاتا ہے۔”
اسٹریٹ لائٹس کی بندش اور بڑھتی ہوئی سٹریٹ کرائمز
ٹاؤن کمیٹیوں کی عدم توجہی کے باعث کئی اہم شاہراہوں اور رہائشی علاقوں کی اسٹریٹ لائٹس طویل عرصے سے بند پڑی ہیں۔ رات کے وقت اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کا رات کے وقت گھروں سے نکلنا محال ہو گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اسٹریٹ لائٹس کی فوری بحالی ناگزیر ہے۔
عوامی نمائندوں اور ٹاؤن انتظامیہ سے شفافیت کا مطالبہ
شہریوں اور مقامی تنظیموں نے ٹاؤن بجٹ اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب تک بلدیاتی کاموں میں شفافیت (Transparency) نہیں لائی جائے گی اور افسران خود زمین پر آ کر مسائل کا جائزہ نہیں لیں گے، تب تک صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
کراچی کے ان دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹاؤن ناظمین اور انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر “شکایات سیل” (Complaint Cells) کو فعال کرنا ہوگا جہاں شہریوں کی بات سنی جائے اور اس پر 24 گھنٹوں کے اندر ایکشن لیا جائے۔ روشنیوں کے شہر کو اس کا پرانا امن اور خوبصورتی لوٹانے کے لیے اب دعووں سے نکل کر عملی کام کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
