واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ اپنے طور پر نہیں بلکہ دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان کی پرزور درخواست اور اپیل پر کیا ہے۔
چین کے اہم دورے سے واپسی پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے پاک-ایران خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر کھل کر بات کی اور مستقبل میں دوبارہ فوجی کارروائی کا اشارہ بھی دے دیا۔
‘میں ذاتی طور پر جنگ بندی کے حق میں نہیں تھا’
امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ایران کے ساتھ اس جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا:
“امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ ایک ماہ کی جنگ بندی کے بعد وہ (ایرانی فوج) شاید کچھ سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہوں گے، اس لیے اب ہمیں وہاں دوبارہ جا کر تھوڑا بہت ‘کلیئر اپ ورک’ (صفائی کا کام) کرنا پڑے گا۔ امریکا مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے بھی کر سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس عارضی پیچھے ہٹنے کی واحد وجہ پاکستان اور دیگر اتحادی ممالک کا سفارتی دباؤ اور اپیلیں تھیں۔
پسِ پردہ سفارت کاری: پاکستان اور مسلم ممالک کا کردار
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پسِ پردہ (Back-channel) سفارت کاری عروج پر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق درج ذیل ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا:
-
پاکستان
-
سعودی عرب
-
ترکی
-
قطر
ان ممالک کی جانب سے مسلسل سفارتی رابطوں کے بعد ہی امریکا کو جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکا۔
‘یہ نفسیاتی حربہ ہے’، ایران کا سخت جواب
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک “نفسیاتی حربہ” قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی دفاعی اور فوجی طاقت مکمل طور پر برقرار ہے اور اگر امریکا نے دوبارہ جارحیت کی یا جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، تو ایران کی طرف سے اس کا انتہائی فیصلہ کن اور عبرتناک جواب دیا جائے گا۔
تحریر و تجزیہ: انٹرنیشنل ڈیسک
