دھرنا سیاست نے پورے ملک کا امن وامان خطرے میں ڈال دیا

Advertisements

کراچی کے تین اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی تبدیلیاں

سندھ میں پانچ یا زائد افراد کے اجتماع پر پابندی، دفعہ 144 کا نفاذ

دھرنا سیاست نے پورے ملک کا امن وامان خطرے میں ڈال دیا

کراچی(رپورٹ: فرقان فاروقی) عمران خان نے جو کہا وہ کر دکھایا، 25 مئ سے شروع ہونے والی دھرنا سیاست نے ملک کے امن وامان کو خطرے میں ڈال دیا ہے، ملک بھر میں شدید گرمی ہے اور ایسے میں کہا جارہا ہے آؤ اور دھرنے میں شریک ہو، کراچی میں بھی اس کے اثرات دیکھنے میں آرہے ہیں نمائش سمیت مختلف جگہوں پر دھرنے کی اطلاعات ہیں اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے اور کراچی سمیت سندھ میں امن وامان کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے ابتدائی طور پر ضلع کورنگی، غربی اور شرقی کے ڈپٹی کمشنرز کو تبدیل کر دیا گیا ہے ان کی جگہ جو ڈپٹی کمشنرز تعینات کئے گئے ہیں ان کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ سخت فیصلے کرنے کے ماہر ہیں ضلع شرقی شہر کا سب سے حساس ضلع ہے جہاں نمائش، مزار قائد، نشتر پارک سمیت دیگر اہم مقامات موجود ہیں جہاں سیاست کے ساتھ احتجاجی مظاہرے ہونا معمول کی بات ہے ایسے میں ڈپٹی کمشنر کا تبدیل کیا جانا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ حکومت سندھ دھرنوں، احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کیلئے سخت حکمت عملی اختیار کرے گی کیونکہ محکمہ داخلہ سندھ نے ایک اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کی آڑ لے کر امن وامان کی صورتحال کو خراب کیا جاسکتا ہے لہذا پورے سندھ میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد جمع ہونے سمیت دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئ ہے خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف متعلقہ اسٹیشن ہاؤس افسران(ایس ایچ اوز) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف فوری کاروائی عمل میں لائیں،محکمہ داخلہ کے نوٹیفیکیشن میں عموما کمشنر، ڈپٹی کمشنرز کو دفعہ 144 پر پابندی کا اختیار دیا جاتا ہے لیکن اس کے برخلاف گراس روٹ لیول پر جاکر ایس ایچ اوز کو براہ راست کاروائی کرنے کے اختیارات دئیے گئے ہیں جس سے معاملات کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، حکومت سندھ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ تحریک انصاف، امن وآشتی کا رستہ اپنانے کے بجائے توڑ پھوڑ کا رستہ اپنا سکتی ہے جس کی کچھ جھلک میڈیا ہاؤسز پر حملے سے بھی سامنے آئ ہے لہذا ایس ایچ اوز کو میدان میں اتار دیا گیا ہے کہ وہ دفعہ 144 کے نفاذ کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں.

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں