ایران کے جوہری معاہدے پر تعطل کا شکار مذاکرات بحال ہوگئے اب حتمی معاہدے کے قریب ہیں: یورپی یونین

Advertisements
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ حالیہ بات چیت کے بعد ایران کے جوہری معاہدے پر تعطل کا شکار مذاکرات بحال ہوگئے ہیں اور اب حتمی معاہدہ قریب ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق جوزف بوریل نے کہا کہ رواں ہفتے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے میں مدد کے لیے یورپی یونین کے ایلچی اینریک مورا کا مشن ’توقع سے بہتر‘ تھا۔

جرمنی میں جی 7 اجلاس کی سائیڈلائن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جوزف بوریل نے کہا کہ بات چیت رکی ہوئی تھی جو اب بحال ہو چکی ہے اور اب حتمی معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے‘۔

یورپی یونین کے ایلچی اینریک مورا نے ایران کے مذاکرات کار علی بغیری سے روان ہفتے تہران میں دو دن تک ملاقاتیں کیں۔

دریں اثنا قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے جمعرات کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تاکہ پیشرفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

یاد رہے کہ 2015 میں طے پانے والے معاہدے میں ایران کو جوہری مقامات پر تنصیبات کو بند کرنے یا ان میں ترمیم کرنے اور بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو تنصیبات کے دوروں کی اجازت دینے اور کوئی جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی ضمانت لی گئی تھی۔ اس کے بدلے میں ایران پر سے کئی بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں ہٹا دی گئی تھیں۔

جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کے نام سے پہچانے جانے والے اس معاہدے سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018 میں یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں جس کے بعد ایران نے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تھا۔

ٹرمپ کی دفتر سے رخصتی کے بعد معاہدے کو بحال کرنے کے لیے دوبارہ کوششیں شروع ہوئیں اور ویانا میں ایک سال سے جاری مذاکرات کے دوران اینرک مورا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

مذاکرات کے اہم نکات میں سے ایک تہران کا امریکا سے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ ہے۔

جوزف بوریل نے کہا کہ اس طرح کے اختلافات کہ ’پاسداران انقلاب کے بارے میں کیا کرنا ہے‘ کی وجہ سے مذاکرات میں پیشرفت دو ماہ تک رکی رہی۔

انہوں نے کہا کہ اینرک مورا، تہران کے پاس یورپی یونین کا یہ پیغام لے کر گئے کہ ’ہم اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتے‘۔

انہوں نے کہا کہ تہران کی طرف سے جواب مثبت آیا ہے، اس طرح کے مسائل راتوں رات حل نہیں ہوسکتے، ایسے کہا جاسکتا ہے کہ بات چیت کے دروازے بند تھے جو اب کھل گئے ہیں۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet