انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکشن میں نہیں جائیں گے: آصف زرداری

Advertisements
سابق صدر آصف علی زرداری
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ گزشتہ رات نواز شریف سے بات کی اور سمجھایا، جیسے ہی انتخابی اصلاحات ہوں الیکشن کرائیں جبکہ انتخابی اصلاحات میں جتنا وقت لگے اس کے بغیر الیکشن میں نہیں جائیں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھاکہ آج تک میں کہتا آیا ہوں کہ الیکشن کرائیں، ہم نے حکومت بنا لی ہے اور وہ چاہ رہے ہیں کہ الیکشن کرائیں، ہم نے کب کہا کہ ہم الیکشن نہیں کرائیں گے؟

ان کا کہنا تھاکہ جب کہتا تھا یہ دھاندلی کی حکومت ہے الیکشن کرائیں توکوئی نہیں سنتا تھا، انتخابی اصلاحات کے بعد الیکشن کی طرف جائیں گے، الیکشن میں جا کر یہ کیا کرے گا، اپنے چار سال میں کیا کام کیا؟

سابق صدر کا کہنا تھاکہ گزشتہ رات نواز شریف سے بات کی اور انہیں سمجھایا، اس وقت ان سے مشاورت کے بعد بات کر رہا ہوں، انہیں سمجھایا کہ جیسے ہی الیکشن اصلاحات ہوں الیکشن کرائے جائیں۔

ان کا کہنا تھاکہ الیکشن اصلاحات تین ماہ میں ہوں، چارماہ میں یا جب بھی ہوں تو ہی الیکشن کرائیں گے، ہمارے گیم پلان میں انتخابی اصلاحات اور نیب میں اصلاحات کرنا شامل ہے

انہوں نے کہا کہ آپ کا اسٹاک ایکسچینج اب کھڑا ہوگیا ہے، پرویز مشرف کے دور کے بعد بھی ہم نے اسٹاک ایکسچینج کو اٹھایاتھا، جب تک آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں آجاتا ہمیں مشکلات ہوں گی، سلیکٹڈ کو ہم نے مل کر ہٹایا ہے، مجھے لوگوں کے بند چولھے جلانے ہیں، ابھی نئی حکومت آئی ہے حالات کنٹرول کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھاکہ پانی کا بڑا مسئلہ ہے، اندرون سندھ اپنی اورغریبوں کی فصل دیکھ کر رو رہا تھا، پانی کا مسئلہ بھی جلد حل ہوجائے گا۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ یہ کہتا تھا کہ میں آلو ٹماٹر کے ریٹ کیلئے نہیں آیا، میں تو آیا ہی آلو، ٹماٹرکیلئے ہوں، تاجر برادری ساتھ بیٹھے، اپنی تجاویز دے، ہم نے تمام دوستوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کسی صورت قبول نہیں، مشرف نے مجھے جیل میں قید رکھا اس کے خلاف بھی مہم نہیں چلائی، ہم پرویز مشرف کو ڈکٹیٹر کہتے تھے لیکن اس کے گھر پر ہلہ تو نہیں بولا، پہلی بار فوج غیر سیاسی ہوئی ہے تو مجھے باجوہ کو سیلیوٹ نہیں کرنا چاہیے ؟

آصف علی زرداری کا کہنا تھاکہ ہم ہر اقدام سوچ سمجھ کر کریں گے، ہمیں اندازہ لگا کر درخت کو دوبارہ پھل دار کرنا ہے، بیورکریسی اور ملک کو تباہ کردیا گیا ہے، ہم پاکستان کو مضبوط کریں گے، یہ نہیں ہوگا کہ میں الگ اور میاں صاحب الگ بات کریں گے، تمام فیصلے دوستوں کےساتھ مل کرکریں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ جمہوریت میں ہار اور جیت ہوتی رہتی ہے، انتخابی اصلاحات میں جتناوقت لگے اس کے بغیرالیکشن میں نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیزپاکستانیوں کیلئے نشستیں مختص کرسکتے ہیں، نیب میں غیر سیاسی افسران رکھیں گے، ہمیں بیورو کریسی کو بھی بحال کرنا ہے، جو چیزیں پرائیویٹائز ہوسکتی ہیں اس پر بات کریں۔

مراسلے کے حوالے سے سابق صدر کا کہنا تھاکہ میں نے کوئی مراسلہ نہیں پڑھا ہے، انھوں نے مراسلہ خود بنایا ہے، مراسلہ ہوگا لیکن ممکنہ طور پر یہ ریاست کی طرف سے نہیں آیا، اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو پیش کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدرجو بائیڈن میرا دوست ہے، مبینہ مراسلے والی بات درست ہوتی تو وہ مجھ سے ضرور بات کرتے۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet