درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر جیسے خاموش قاتل مرض سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ اہم انکشاف سامنے آ گیا

ہائی بلڈ پریشر فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے

جوانی میں جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کو معمول بنا کر درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر جیسے خاموش قاتل مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ ہائی بلڈ پریشر فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ دماغی تنزلی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے بینوف چلڈرنز ہاسپٹل کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر ہفتے 5 گھنٹے تک معتدل ورزش کرنا درمیانی عمر میں فشار خون سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

طبی جریدے امریکن جرنل آف پرینیٹیو میڈیسین میں شائع تحقیق میں 18 سے 3 سال کی عمر کے 5 ہزار افراد کا جائزہ 30 سال تک لیا گیا۔

ان افراد سے ورزش کی عادات، طبی تاریخ، تمباکو نوشی اور الکحل کے استعمال کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئئیں جبکہ ان کے بلڈ پریشر اور جسمانی ون پر بھی نظر رکھی گئی۔

محققین نے ان لوگوں میں بلوغت کے آغاز پر ہر ہفتے کم از کم 5 گھنٹے ورزش کرنے والے 17.9 فیصد رضاکاروں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ ان میں ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 18 فیصد تک کم ہوگیا۔

درحقیقت یہ شرح ان افراد کے مقابلے میں زیادہ تھی جو درمیانی عمر میں جسمانی سرگرمیوں کو معمول بناتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں شامل لگ بھگ 50 فیصد رضاکاروں کی جسمانی سرگرمیوں کی شرح نوجوانی میں زیادہ نمایاں نہیں تھیں جس سے ان میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے کو 5 گھنٹے تک بڑھانا ضروری ہوتا ہے بالخصوص کالج میں زیرتعلیم رہنے کے دوران۔

اس سے قبل مارچ 2020 میں ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ دن میں کچھ وقت چہل قدمی کرنا ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران درمیانی عمر کے افراد کا جائزہ اوسطاً 9 سال تک لینے کے بعد دریافت کیا گیا جو لوگ زیادہ چہل قدمی کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ 43 فیصد اور ہائی بلڈ پریشر کا امکان 31 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تحقیق میں 2 ہزار کے قریب خواتین کے ڈیٹا کو دیکھا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ روزانہ ہر ایک ہزار قدم کے سیٹ کو رپورٹ کریں اور اس مقصد کے لیے ایکسلرومیٹر ڈیوائسز جسمانی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے دی گئی تھی۔

محققین نے دریافت کیا کہ درمیانی عمر میں آپ جتنا زیادہ پیدل چلنا عادت بنائیں گے اتنا ہی ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم ہوجائے گا۔

محققین کا کہنا تھا کہ چہل قدمی سے خواتین میں نہ صرف ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ موٹاپے کا امکان بھی 61 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

تاہم تحقیق میں مردوں میں چہل قدمی اور موٹاپے کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق دریافت نہیں کیا جاسکا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوتا ہے کہ معمول کی جسمانی سرگرمیاں دل کی صحت کے لیے کتنی ضروری ہے اور اس سے درمیانی عمر میں امراض سے تحفظ بھی ملتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چہل قدمی مفت جسمانی سرگرمی ہے اور روزانہ اپنے قدموں کو گننا ایسا آسان طریقہ ہے جس سے لوگ مختلف امراض سے خود کو بچاسکتے ہیں۔

ان کے بقول ایسے افراد جن کے لیے روزانہ ورزش کرنا یا اس کے دورانیے کو بڑھانے کا خیال خوفزدہ کردیتا ہے تو وہ اپنی توجہ دن بھر میں چلنے پر مرکوز کریں تو وہ خود کو جسمانی طور پر زیادہ متحرک کرسکتے ہیں۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet