اولڈ از گولڈ

(اولڈ از گولڈ)

ترتیب (نظام الدین)

دوہزار اٹھارہ پانچ جولائی کو میں (تیس سال) پاٹ ٹائم کتب خانے کی ملازمت کرکے رٹائر ہوچکا ہوں ,
کتب خانے کی یہ ملازمت میرا جنون اور عشق تھا یہاں مطالعہ کے بیتے دنوں کو بھول جانا میرے لیئے ممکن نہیں تھا!
لیکن رٹائر منٹ کے بعد میں نے اپنے مشغلہ اور اپنی روح کی تسکین کے لیئے اپنی فیلڈ کو منتخب کیا( یعنی) پڑھنے اور لکھنے کو#
میرے لیئے یہ ضروری نہیں تھا کہ کوئی بڑا اخبار رسالہ یا کوئی ٹی وی چینل میرے لکھے مضامین کو شائع کرتا ایک چھوٹا اخبار ہی میری اس خواہش کے لیئے کافی تھا,
آج میں جو مضمون تحریر کررہا ہوں وہ دنیا میں رٹائر بوڑھے افراد کی بڑھتی تعداد سے متعلق ہے,
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس کے باعث مستقبل میں کئی اقوام کو پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے,.
ہمارے اردگرد یہ المیہ بہت واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ رٹائر بوڑھے افراد کی بہت بڑی تعداد پہلا قدم اٹھانے سے گھبراتی ہے۔ وہ اس ڈر سے کسی کام کو شروع ہی نہیں کرپاتے کہ یہ مکمل کیسے ہوگا حالانکہ قانون قدرت ہے کہ جب انسان مصمم ارادہ کرنے کے بعد کسی کام کا آغاز کرلے تو اللہ تعالی بھی اسے پورا کروا ہی دیتے ہیں۔
رٹائر افراد اپنے آپ کو . بوڑھا کیوں سمجھتے ہیں ؟
ملازمت کے دوران روزمرہ گفتگو میں اور شناختی دستاویزات میں عمر کا لفظ کثرت سے استعمال ہوتا ہے جبکہ عمر محض ایک ہندسہ ہے جس کا تعلق ہماری تاریخ پیدائش سے ہے اس تاریخ پیدائش کے لحاظ سے کچھ افراد کی عمر 40 سال ہے تو ضروری نہیں وہ سب حقیقتاً 40 سال ہی کے ہونگے ان میں کچھ لوگوں کی اصل عمر 40 سال سے کہیں کم اور کچھ کی 40 سال سے زیادہ ہوسکتی ہے,انسان کی اصل عمر اس کی بائیولا جیکل ایج حیاتیاتی عمر ہوتی ہے یعنی اس کے جسمانی خدوخال اور اعضائے رئیسہ کس رفتار سے وقت کا سفر طے کررہے ہیں اور یہ سفر ان کے اندر کیا تبدیلیاں لارہا ہے,
ہم اپنی زندگی کے سفر میں دیکھتے ہیں کچھ لوگ اپنی تاریخ پیدائش کے لحاظ سے زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ پر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے انکی عمر کسی ایک مقام پر آکر ٹہر گئی ہو یہ ہی اس شخص کی حیاتیاتی عمر ہوتی ہے.,
حیاتیاتی گھڑی کی رفتار یعنی عمر سے زیادہ یا کم نظر آنے کا تعلق زیادہ تر
ان افراد کی طرز زندگی میں اعضائے رئیسہ کی کارکردگی, خون کا دباؤ, کولیسٹرول اور شوگر کی سطح سمیت, نیند کا دورانیہ ورزش زہنی دباؤ گھر کا ماحول تمباکو اور الکول کے استعمال سے ہے ,
پاکستان میں رٹائر بوڑھے افراد جسمانی اور ذہنی سستی کا شکار نظر آتے ہیں۔ میرے ملنے جلنے والوں میں کتنے ہی لوگ ہیں جو خود کو جسمانی طور پر فٹ نہیں سمجھتے اور روٹین کے کاموں سے بھی ہاتھ اٹھا دیتے ہیں۔
روزمرہ کے معمولات کو بخوبی انجام نہیں دیتے ان افراد میں سستی، کاہلی اور خود کو بیکار سمجھنے کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے۔

یاد رکھیں، سستی کا علاج چستی ہے۔ اپنے ذہن کو ٹریننگ دینا پڑتی ہے کہ یہ ہمیں سستی اور سہل پسندی کی جانب راغب نہ کرے۔ اپنے ذہن کو مضبوط کیجئے اور ہرگز یہ مت سوچئے کہ آپ بوڑھے ہوگئے ہیں کیونکہ انسان جو سوچتا ہے وہ بن بھی جاتا ہے۔ مشہور کہاوت کہ مرد اور گھوڑا کبھے بوڑھے نہیں ہوتے محض کہاوت ہی نہیں ایک سچ بھی ہے کیونکہ یہ دونوں ہی فطرتا تحرک پسند اور ایکٹو لائیواسٹائل کے عادی ہیں لیکن اگر ہم ہر وقت یہ سوچنا شروع کردیں کہ اب ہم مزید متحرک زندگی نہیں گزار سکتے تو حقیقتا ہمارے قوائے جسمانی جواب دے جائیں گے۔

دیکھا گیا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی بغیر پلاننگ کے گزارتے ہیں اور خاص کر ریٹائرمنٹ کے بعد کے عرصہ کو تو بالکل بھی منصوبہ بندی کرنے کا نہیں سوچتے۔ ریٹائرمنٹ کا مطلب سمجھ لیا گیا ہے کہ اب زندگی اور دنیا سے ہی ریٹائرمنٹ لے لی ۔
حالانکہ ریٹائرمنٹ تو آپ کو موقع فراہم کرتی ہے کہ آپ اب وہ کام سرانجام دیں جو آپ نوکری یا ملازمت کے دوران مصروفیت کی وجہ سے انجام نہیں دے سکے۔ لیکن اس کے برعکس ہم لوگ تمام کام دھندا چھوڑ کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پارکس میں ہمارے بزرگ بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ جم میں ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوشل ایکٹی ویٹیز سے تعلق رکھنے والے بزرگ خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ مساجد میں کرسیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد نے خود کو بوڑھا سمجھ کر خود کو بہت سی چاق و چوبند رکھنے والی سرگرمیوں سے دور کرلیا ہے۔

ریٹائرمنٹ تو بجا طور پر ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ اب ہم اپنے اردگرد موجود لوگوں سے میل جول بڑھائیں، کچھ پرانے شوق پورے کریں۔ سوسائٹی اور کمیونٹی کیلئے کام کریں۔ خود کو عبادات میں مصروف کریں اور ایک ایکٹو لائف گزاریں۔ جس فیلڈ میں آپ نے زندگی کا اتنا بڑا عرصہ گزارا ہے اور اس فیلڈ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ ہیں اب اس علم کو دوسرے افراد میں منتقل کریں۔ اپنے ہنر اور تجربات سے نوجوان نسل کو روشناس کروائیں۔ یہ کام آپ پارکس میں کرسکتے ہیں، کمیونٹی سینٹرز میں یا اپنے گھر میں سرانجام دے سکتے ہیں جس سے یقینا آپ کو ایک مثبت اور تعمیری سرگرمی ملے گی اور آپ ایک ایکٹو زندگی گزاریں گے۔

اسی سے جڑا ایک اور اہم معاملہ یہ ہے کہ اکثر افراد ریٹائرمنٹ کے بعد مسجد کو اپنا ٹھکانا بنا لیتے ہیں۔ اگرچہ یہ خوش آئند بات ہے کہ مساجد کو بطور کمیونٹی میل جول کے مرکز بھی استعمال کیا جائے لیکن خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب یہ احباب خود کو مذہب پر اتھارٹی بھی سمجھنا شروع کردیتے ہیں اور مساجد میں مذہبی معاملات پر بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر یہ احباب مساجد میں اس فیلڈ سے متعلق حلقہ قائم کریں جس کے یہ ایکسپرٹ ہیں، تو یقینا کمیونٹی کو بھی فائدہ ہوگا اور ان کی بات توجہ سے سنی بھی جائے گی۔ اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ چند روز قبل پیش آیا جب میرے ایک جاننے والے ڈاکٹر جو حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے مقامی مسجد میں درس قرآن کا حلقہ قائم کرلیا ہے اور اب وہاں لوگوں کو قرآن کا درس دیتے ہیں حالانکہ انہوں نے پوری زندگی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی اور اسی فیلڈ میں رہے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ جب آپ مذہب پر اتھارٹی نہیں ہیں تو یہ بات مناسب نہیں کہ آپ اچانک سے خود کو دینی علوم کا استاد سمجھنے لگیں۔ اس سے بہتر یہ ہوگا کہ آپ اس فیلڈ کا حلقہ قائم کریں جس میں آپ اتھارٹی ہیں اور اس کے اسرار و رموز نئی نسل میں منتقل کریں او یہ حقیتا معاشرے کی خدمت ہوگی۔

یقین جانئے بزرگ افراد ہمارا اثاثہ ہیں او ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور انہیں بھی چاہئے کہ جس جس فیلڈ میں انہوں نے تخصص حاصل کیا اب اسے نوجوانوں کو سکھائیں اور معاشرے کا کارآمد شہری بننے میں مدد کریں۔ موجودہ وبا نے بہت بڑی تعداد میں ہمارے بزرگ اور علما ہم سے چھین لئے ہیں جن کیلئے ہم دعاگو ہیں اور بقیہ بزرگوں کی حفاظت اور درازی عمر کیلئے بھی ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ ساتھ ہی میں بزرگوں سے خاص کر علما سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھیں اور ایک متحرک زندگی گزاریں تاکہ بڑی تعداد میں لوگ ان کے علوم سے فیضیاب ہوسکیں۔
دنیا کی کچھ شخصیات
ہمارے لیئے ایک مثال ہیں ان میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ,
امریک سے تعلق رکھنے والے دو صدارتی امید وار ڈونلڈ ٹرمپ 74 سال ان کے مدمقابل جوبانڈن, 78 برس کو پہنچنے کے باوجود دونوں امید واروں نے جس چابکدستی اور چستی کیساتھ الیکشن کمپین چلائی جبکہ امریک کا رقبہ بہت زیادہ ہے اس لیئے وہاں الیکش کمپین آسان نہیں اس میں بہت لمبا راستہ طے کرکے مقام پرمیٹنگز میں شامل ہو کر جس پھرتی سے یہ عمل انجام دیا اس میں ہمارے بزرگوں کے لیئے واضح سبق ہیں#

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں