اسلام دشمنوں کا بویا بیج درخت بن چکا ہے جڑ سے کاٹنے کے بجائے اسے مزید سینچا جارہا ہے

فرقہ واریت اور گروہی فرق آج بھی پاکستان کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں

اسلام دشمنوں کا بویا بیج درخت بن چکا ہے جڑ سے کاٹنے کے بجائے اسے مزید سینچا جارہا ہے

(تحریر: فرقان فاروقی)

تاریخ گواہ ہے جب بھی پاک وہند کی دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر بات ہوگی تو لکھا جاتا رہے گا کہ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کا فلسفہ کسی کو نہیں بھایا تھا اور ہر کوئی اس کو دنیا کیلئے خطرہ قرار دینے کے درپے تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎ کی بنیاد پر جو بھی وجود میں آیا اس کے فلسفے نے دنیا پر حکمرانی کی اور دنیا کو بتایا کہ مذکورہ کلمہ امن وسلامتی کی ضمانت ہے اور اس کلمے کے سائے میں ہر انسان خواہ وہ کس رنگ، نسل یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو محفوظ ہے ایسے میں اسلام کے ماننے والوں کے سامنے دیگر مذاہب کو سامنے رکھ کر دشمنیاں نکالنے کا فارمولا کسی طور بھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا لہذا آپسی فرق کی بنیاد پر تفریق کے فارمولے کو انجیکٹ کر کے پاکستان کی تخلیق کر دی گئی ، ہندوستان چھوڑ کر آئے پاکستانیوں کو نوے کی دہائی تک کئی ناموں سمیت ہندوستانی کہا جاتا رہا، کبھی یہ نہیں سوچا گیا کہ اس کے پیچھے انجکیٹیڈ عناصر کارفرما تھے جو ہندوستان سے لٹے پٹے اربوں کی جائدادیں چھوڑ کر کھانے کے محتاج ہو کر آنے والوں کو ہی حرف تنقید بناتے رہے جبکہ اب تک کی لکھی تاریخ میں سندھ اور پنجاب میں آنے والے ان اصل پاکستانیوں کو ہی ملک کے قیام کا وارث قرار دیا جاتا ہے لیکن اس انجیکشن کا کیا کریں جو غیر مذاہب نے اسلام کے ماننے والوں میں پیوست کردیا تھا جو آج تک اپنا اثر دکھا رہا ہے رہی سہی کسر ہندوستان کو خیر آباد کہہ کر پاکستان کیلئے لاکھوں قربانیاں دیکر آنے والوں نے نکال دیں کیونکہ ان میں بھی یہ انجیکٹ کر دیا گیا تھا کہ فلاں فلاں زبان بولنے والے تمہارے کبھی نہیں ہوسکتے جس کو ابھار دینے کیلئے بھی کام کیا گیا جو آج ناسور کی طرح پھیل چکا ہے، پاکستان بن گیا تہتر سال بھی گزر گئے ہم فرقہ ورانہ بنیاد پر سنی، شیعہ ہونے کے ساتھ نہ جانے کیا کیا ہیں لیکن مسلمان نہیں پاکستانی نہیں، گروہی ولسانی بنیاد پر بکھرے پڑے ہیں پھر بھی مسلمان یا پاکستانی نہیں ہیں، انجیکٹیڈ پاکستان میں جی رہے ہیں لیکن ایک پاکستانی بننے کیلئے ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کوئی جنگ ہم پر مسلط ہو کم ازکم اس صورتحال میں ہم سے انجیکشن کا اثر ختم ہو جاتا ہے لیکن جس طرح آجکل یہ انجیکٹیڈ زہر پاکستان کو اپنے لپیٹے ہوئے ہے مستقبل میں باہمی نفرتوں کی وجہ سے مشکلات پیدا کرسکتا ہے اسے دور کرنے کیلئے تریاق کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہیں تھی ہر ذی شعور کے یہ بات مشاہدے میں ہے کہ فرقہ واری اختلافات اسقدر بڑھائے جاچکے ہیں کہ ایکدوسرے کو کافر قرار دیا جانا عام سے بات ہوچکی ہے گروہی اور لسانی معاملہ تو اس سے بھی بڑھ چکا ہے ایکدوسرے کو لسانی بنیاد پر سپورٹ کرنا اور مخالف کی جان تک کے دشمن بن جانا عمومی بات ہو چکی ہے، اس صورتحال کو فرقہ واریت اور لسانی معاملات کو ان میں موجود باشعور اور غیر انجیکٹیڈ لوگوں نے سنبھال رکھا ہے جو اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ مسلمان مذکورہ لحاظ سے بھی ایک دوسرے کا دشمن ہوسکتا ہے اور یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کے عقائد نظریات جو کہ پاکستان کے عقائد ونظریات تھے پر پاکستان آج بھی قائم ودائم ہے اور ان شاء اللّہ رہتی دنیا تک قائم ودائم رہنے کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرے گا ہمیں باہم صرف اتنا کرنا ہے کہ ایکدوسرے کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے باہمی تفریق رکھنے والوں کو روک نہیں سکتے تو ان سے دوری اختیار کرنی ہے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎ کو ہر چیز سے مقدم جاننا ہے کیونکہ یہ ہی اسلام اور پاکستان کی اساس ہے پھر چاہے دنیا کے طاقتور ترین بھی آپ کے مقابل ہونگے تو ان کا انجام دنیا ماضی میں بھی دیکھ چکی ہے اور ان شاء اللّہ بہت جلد دوبارہ بھی دیکھے گی کیونکہ یہ بات بے اعتقادی نہیں ہے کہ
“میرِ عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے”

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں