قابل تحسین کاوشیں۔ ٹیم ورک کے ایم سی بہتری کی راہ پر

ترقی صلاحیت اور قابلیت۔۔۔۔۔ایڈمنسٹریٹر کراچی کی قابل تحسین کاوشیں۔ ٹیم ورک کے ایم سی بہتری کی راہ پر


تجزیہ نگار:رضوان احمد فکری

کراچی میں گیارہ سو ارب کے پیکیج کی گونج کے بعد نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ اورٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ وفاق، صوبائی حکومت اور بلدیہ کراچی و دیگر اسٹیک ہولڈرز متحرک نظر آرہے ہیں۔ کراچی کا انفرا اسٹرکچر نہ صرف زخمی ہے بلکہ اسکی مرہم پٹی کے لئے اربوں روپے درکار ہیں۔ بلدیہ کراچی میں انتہائی تجربہ کار اور اچھی شہرت کے حامل ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد تعینات ہیں۔ جنکی آمد کے بعد فریئر ہال میں پھولوں کی نمائش، کراچی کی سرگرمیوں میں صحت مند اضافہ ہوا ہے۔ گو انہیں کے ایم سی کی صورت میں مسائلستان ملا ہے۔ جہاں تنخواہوں تک کے لالے ہیں۔ لیکن ترقی صلاحیت اور قابلیت کا مجموعہ ایڈمنسٹریٹر کراچی میں پایا جاتا ہے۔ وہ اور انکے نائب میٹروپولیٹن کمشنر اٖضل زیدی حکومت سندھ سے 170ملین کی گرانٹ لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جبکہ ایڈمنسٹریٹر کراچی نے ریکوریز میں اضافے کے لئے بہترین ٹیم منخب کرکے ایک افسر بلال منظر جو کے ایم سی آفیسرزویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں انہوں نے میونسپل یوٹیلیٹی کی بلنگ اور چارجڈ پارکنگ کے لئے نئی ونڈوز اور سائٹس پر کام شروع کراکے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے ویژن کو آگے بڑھایا ہے۔جبکہ لئیق احمد نے آکشن اور مختلف محکمہ جات کو منفعت بخش ادارہ بنانے کی ٹھان لی ہے جو ادارے کے لئے نیک شگون ہے۔ جبکہ لینڈ کو قانون اور کے ایم سی کے لئے منفعت بخش ادارہ بنانے کے لئے بھی زبردست اقدامات کئے ہیں۔ جس سے بلدیہ کراچی کی ریکوری میں اضافہ ہوگا۔ کراچی کی صورتحال اسوقت یہ ہے کہ کچرے، فٹ پاتھ، سڑکیں، اسپتال، پارکس، لائبریریز، کمیونٹی سینٹر، ماڈل اسکولز، زوو خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ جن پر ایڈمنسٹریٹر کراچی کا فوکس ہے اور وسائل ملتے ہی کراچی میں ترقی پکا پہیہ چل پڑے گا۔ کراچی کی ترقی کے معاملات میں ٹرانسفارمیشن پلان میں بھی انکی اہم ذمہ داری ہے۔ اسوقت انکی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ہر فیلڈ میں انکا توجہ دینا بہت خوش آئند ہے۔ جس میں سی ایس ایس کارنر، پرانے ریٹس کی ریویژن کرتے ہوئے پٹرول پمپس کا آکشن، ہاکس بے ہٹس اور دیگر بلدیہ کراچی کے اثاثہ جات پر بھی درست استعمال کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کراچی کا سب سے اہم ادارہ ہے۔ جس کی ماضی میں بہت اہمیت رہی ہے۔ 2001میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نظام میں بلدیہ کراچی کے پاس کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، سوشل ویلفیئر، کلچر، کوآپریٹو، لیبر، لٹریسی، ریونیو، پرائس کنٹرول، سی سی بی، لوکل ٹیکس، ایجوکیشن، بورڈ آف ریونیو، ڈپٹی کمشنر اور دیگر لینڈ، فوڈ، فیومیگیشن، سالڈ ویسٹ، کالجز، بیورو آف سپلائی سمیت متعدد محکمے اس کا حصہ تھے۔ لیکن SLGA2013 میں نہ صرف یہ محکمے چھین لئے گئے۔ بلکہ کے ایم سی کے اہم محکمے بھی ڈی ایم سیز کو ٹرانسفر کردیئے گئے۔ کراچی میں تین سطحی نظام تھا جس میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ، ٹاون میونسپل ایڈمنسٹریشن، یونین کونسل ایڈمنسٹریشن شامل تھیں۔ 178یونین کونسلیں اور 18ٹاون تھے۔ لیکنSLGA2013میں کے ایم سی محدود محکموں تک محدود رہ گئی جبکہ اسکی بہت سی انویسٹمنٹ بھی کے ڈی اے نے قبضہ کرلیں جس میں صدر چارجڈ پارکنگ پلازہ، سوک سینٹر دفاتر کے اثاثہ جات، بچت بازار، بہت سے دفاتر جس میں کے ایم سی کیمپ آفس اور دیگر شامل تھے۔ جبکہ فوڈ کی سندھ گورنمنٹ نے الگ اتھارٹی قائم کردی۔ کے ایم سی میں باصلاحیت افسران ہیں جس میں مسعود عالم، جمیل فاروقی، بلال منظر، طارق صدیقی، مظہر خان، عمران صدیقی، عبدالقیوم، کنور ایوب، شمس الدین، علی حسن ساجد، بشیر صدیقی، وسیم باقری، راجہ رستم، جاوید مصطفی، انصار صدیقی، خالد خان، محمد محسن،رشید ملک، عمرانہ اشفاق، عبدالمتین، سعید اختر، عزرا مقیم، رضا حیدر رضوی، خورشید شاہ، منصور قاضی، احسن مرزا، آصف اقبال، زینت علی، عبدالرب، جاوید مصطفی، انصار صدیقی، ارشاد احمد، خالد خان، محمد محسن، رشید ملک، عمرانہ اشفاق، عبدالمتین، سعید اختر، رضا عباس رضوی، سیف عباس حسنی، آفاق سعید، محمود بیگ، رضوان احمد، وصی عثمانی، سمیت

متعدد افسران ہیں جو ایڈمنسٹریٹر کراچی کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ جبکہ کے ایم سی آفیسرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے آرو پلانٹ اور جم کے علاوہ فلٹر پلانٹ بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں نصب کرائے ہیں۔ اسکے علاوہ مختلف این جی اوز سے بھی اسپتالوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ اور وہ پارکوں، سفاری پارک، اور زوو میں بھی آئس پارک بنوا کر کراچی میں گلیات اور ناردن ایریاز کی تفریح فراہم کرنے کے منصوبے رکھتے ہیں۔ جس میں ویٹرنری میں سینئر دائریکٹر جمیل فاروقی جدت پسندی اور اسے منافع بخش ادارہ بنانے کے لئے بہترین کاوش کر رہے ہیں۔۔ باصلاحیت ایڈمنسٹریٹر نے اچھے افسران کو ادارے کے لئے بہترین کاوش کا موقع فراہم کیا ہے۔ جبکہ مظہر خان نے کراچی کے نالوں کے لئے تندہی اور اور دن رات کام کیا۔ جس میں کراچی کی شکل بہتر کرنے کے لئے این ڈی ایم اے، وفاق اور سندھ حکومت اور کے ایم سی خصوصی کرداار ادا کریگی۔ جبکہ گیارہ سو ارب خرچ ہونے پر کراچی کی شکل میں تبدیلی آئے گی۔ اور کراچی میں ٹرانسپورٹ اور دیگر مسائل حل ہوں گے۔ جبکہ صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور سعید غنی نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ بلدیاتی اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا۔ اور اس پر ہوم ورک شروع ہوچکا ہے۔جس میں اپوزیشن کی آراء کو بھی شامل کیا جائے گا۔ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر / میئر کو کو کراچی کے تمام اداروں میں نمائندگی ملنے کے علاوہ کنٹومنٹ میں بھی ایک خاص مقام ملنا چاہئے۔ تاکہ وہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے تمام شہر میں مانیٹرنگ اور حصہ داری ہو۔ کے ایم سی کا او زیڈ ٹی شیئر ریوائس ہوکر نئی شرح سے ملنا چاہئے تاکہ ادارہ بہترپرفارم کرسکے۔

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں