اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ “طاقت ظلم کیلئے استعمال ہو تو درست ہے”

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ
“طاقت ظلم کیلئے استعمال ہو تو درست ہے”

تحریر: فرقان فاروقی

طاقت کے حصول کیلئے ہمیشہ حکمت عملیاں اختیار کی جاتی رہی ہیں، امریکہ نے روس کی طاقت کو ایسے ہی نہیں توڑا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ روس برقرار رہا تو امریکہ دنیا میں طاقت کا ایک عمومی مرکز رہے گا لیکن امریکہ نے کبھی کسی کو نہیں بخشا یاد رہے کہ کمیونزم کی بیخ کنی کرنے کے بعدامریکہ کی لڑی ہوئی جنگیں اسرائیل کے تحفظ کیلئے لڑی گئیں،کیونکہ اسرائیل کا وجود امریکہ اور برطانیہ کی سلامتی کی علامت بن چکا ہے اور امریکہ اور برطانیہ کے منہ چڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں معاشی کنٹرول اسرائیل پا چکا ہے عراق اس کی واضح مثال ہے جہاں جنگی جنون نے لاکھوں جانیں لیں جس پربرطانیہ کے وزیراعظم نے معافی مانگی مسئلہ صدر صدام حسین کو ہٹانے کا نہیں تھا بلکہ اسے تباہ کرنے کے پیچھے اسرائیل کی پشت پناہی اور تحفظ تھا سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بلیک واٹر کے چار افسران کی سزائیں معاف کر چکے ہیں جنہوں نے عراق کے قتل عام میں 14 معصوم لوگوں کو مارا یہ انصاف کی کھلی توہین ہے،لیکن پھر بھی امریکی قانون کے رکھوالے قرار دے دئیے جاتے ہیں مخصوص ایجنڈے نے پوری دنیا کو بری طرح متاثر کر دیا ہے کشمیر کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن امریکہ اور برطانیہ اسے جب تک چاہے گا اپنے حق میں استعمال کرتا رہے گا اسرائیل اپنے غیر قانونی وجود کی وجہ سے آج تک دنیا میں متنازع ہے، ایک ملک کیلئے ضروری ہے کہ اس کی جغرافیائی حدود متعین ہو، مستقل آبادی ہو، حکومت ہو اور دوسری ریاستوں سے روابط رکھنے کی صلاحیت ہو مذکورہ اصولوں کے تحت اسرائیل کی نہ حدود ہے نہ آبادی مستقل ہے اسرائیل کی حکومت دراصل برطانیہ کی حکومت ہے امریکہ کے بغیر اسرائیل دوسرے ممالک سے تعلقات استوار نہیں رکھ پاتا ہے مسلم ممالک تو اسرائیل کے لیے لوہے کا نوالہ ہی سہی لیکن امریکہ کی دھونس ودھمکی کی بنیاد پر مراکش کو اسرائیل کو تسلیم کرواچکا ہے اور اب یہ سلسلہ دیگر اسلامی ممالک تک وسیع ہو رہا ہے اور اس کیلئے معیشت کے راستے اختیار کئے جارہےہیں جس میں اسلامی ممالک بھی پھنس چکے ہیں کاش سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کی اسلامی ممالک کو یکجا کر کے ہر لحاظ سے مستحکم کرنے کا خواب عملی شکل پالیتا تو آج اسلامی ممالک پر دباؤ موجود نہیں ہوتا، اسرائیل کی تسلیم سے انکار سے ممالک خاص طور پر اسلامی ممالک کیونکر منکر ہیں اس کی اہم وجہ بیان کی جاچکی ہے جس کی کوئی چیز قانونی دائرہ کار میں نہ ہو تو اسے کیوں تسلیم کیا جائے؟ اخلاقی لحاظ سے دیکھا جائے کہ جو ملک ایک خالص انسانیت سوز کردار رکھ کر وجود میں آیا ہو اور فلسطین کے لاکھوں معصوم لوگوں کے قتل عام میں ملوث ہو مشرق وسطی کی تباہی کا ذمہ دار ہو اسے کون تسلیم کریگا کیونکہ اسے تسلیم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ بات تسلیم کی جارہی ہے کہ جہاں طاقت وہاں ظلم درست ہے اور یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ توسیع پسندانہ عزائم جائز ہیں جس کیلئے جان لینا، بےگھر کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے،جس کا ثبوت اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی دو سو سے زائد قرار دادیں ہیں، مراکش کی خود مختاری پر وار کر کے اسرائیل کو تسلیم کروالیا گیا ہے لیکن مراکش کو اپنا ضمیر بیچنا انتہائی بھاری ثابت ہوگا کیونکہ ایسی غیر قانونی ریاست جو صرف طاقت کے بل بوتے پر تسلط قائم کئےہو اسے تسلیم کرنے والے اسی سوچ کے عکاس مانے اور جانے جائیں گے اور ظلم کی ہر کڑی ان کے ساتھ بھی منسلک ہو جائے گی اور مراکش اس کڑی سے منسلک ہو چکا ہے، اس صورتحال میں پاکستان کیلئے بہت بڑا سبق موجود ہے کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال کر اسے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے قدم بڑھائے اور اس کیلئے صوبہ بلوچستان میں شر پسند عناصر کو منظم کیا جارہا ہے جس کی پہلی قسط سامنے بھی آچکی ہے مزید ایسے کچھ اقدامات کرواکر پاکستان کو مجبور کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے یا ممکنہ طور پر بلوچستان کی قربانی دینی پڑے، پاکستان جوہری طاقت ہونے کی وجہ سے مسلم ممالک کیلئے رول ماڈل ہے اگر خدانخواستہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو باقی اسلامی ممالک کیلئے اسے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہوگی سب سے اہم پہلو جس کا پہلے ہی ذکر کیا جاچکا ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان گرے لسٹ میں ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے دور کا تقریبا ڈھائی سال مکمل کر رہے ہیں لیکن ملک کے قرضے اتارنے میں وہ پیش رفت نہیں دکھا پا رہے ہیں جس کے انہوں نے دعوے کئے تھے اور اسی گرے لسٹ کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو منوانے جیسے مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، پاکستان کی مرکزی حیثیت کو سمجھتے ہوئے شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اسرائیل کو وہ کسی طرح تسلیم کرلے جو کسی طور بھی پاکستان یا مسلم دنیا کے حق میں نہیں ہے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے یا شرپسندی سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے پاکستان دنیا سے کٹ کر رہ جائے مگر اسے ثابت قدم رہنا ہوگا مشکلات گھمبیر ہوسکتی ہیں لیکن ناممکن نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد ہی پاکستان کا عروج لکھا جاچکا ہو لیکن اسرائیل کے عزائم ساری دنیا کیلئے خطرہ ہیں انسانیت بچانے کیلئے اس وقت ایک مضبوط، غیر سیاسی اور غیر جانبدارانہ عالمی اتحاد کی ضرورت ہے جو انسانیت دشمن ممالک پر نظر رکھنے کے ساتھ ان سے ہر سطح پر نمٹ سکے، اسرائیل آج دنیا بھر کے لوگوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے برطانیہ اور امریکہ کا سہارا لے کر پنپنے کی کوشش کرنے والا یہ غیر قانونی ملک خدانخواستہ کسی طور پر پنپ گیا تو امریکہ اور برطانیہ کو بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ ان کیلئے وہ آگ کا شعلہ ثابت ہوگا جو اپنے لئے راستہ بنانے والوں کو بھی جلا کر راکھ کر دے گا کیونکہ جب سوچ صرف اتنی ہو کہ مارو، لوٹو چاہے اس کیلئے کچھ ہی کیوں نہ کرنا پڑے تو اس سے آگے آپ سمجھ گئے ہوں گے،،،،،

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

اپنا تبصرہ بھیجیں