آرٹیکل 149 کا شوشا کارگر نہ ہوسکا

                                                                                              تحریر : فرقان شکیل فاروقی

کراچی میں بلدیاتی اور شہری سہولیات کا فقدان بڑھ کر وفاق کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں یکسر ناکام دکھائ دے رہا ہے گزشتہ ماہ کے آخر میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے عندیہ دیا تھا کہ وفاق کے پاس آئین پاکستان کے آرٹیکل 149 کے تحت کنٹرول سنبھالنے کا اختیار حاصل ہے لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی سمیت ایم کیوایم پاکستان کے سوا ہر سیاسی جماعت واویلہ مچاتی دکھائ دی البتہ پی ایس پی اور مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کی جانب سے اس پر کوئ خاص ردعمل سامنے نہیں آیا جو ممکن ہے,

کہ کراچی کے شہری مفادات کو دیکھتے ہوئے نہ دیا گیا ہو البتہ لسانی بو ضرور محسوس کی گئ وفاقی وزیر قانون کی جانب سے چھوڑا گیا یہ شوشہ ،شوشہ ہی ثابت ہوا تاحال اس ضمن میں اقدامات نہیں کئے جاسکے ہیں ممکن ہے کہ جو باتیں مذکورہ آرٹیکل میں درج ہیں وہ قانونی طور پر اس بات کی اجازت ہی نہیں دے رہی ہوں کہ صوبے کے امور میں مداخلت کی جائے یا بیک ڈور رابطے کارگر ثابت ہو گئے ہوں کراچی دنیا کے نقشے پر اس وقت واحد شہر ہے جو ملک کی معیشت کا پہیہ چلا رہا ہے لیکن خود کھنڈر ہوتا جا رہا ہے جو ملک کے خزانے میں 67 سے 70 فیصد ریونیو دے رہا ہے

جس کی عملی مثال گزشتہ روز سامنے آچکی ہے کراچی کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اب کراچی سے کاروبار اندرون ملک منتقل ہوچکے ہیں لہذا ریونیو جنریشن میں نمایاں فرق آئے گا مگرایف بی آر نے واضح کر دیا کہ کراچی اب بھی سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہے جس کی صرف چھ مارکیٹس 31 ارب ریونیو دینے کی اہلیت رکھتی ہیں جبکہ ٹیکس فائلرز کی تعداد بھی انتہائ متاثر کن ہے

یعنی کراچی میں ملک سے محبت کا جذبہ بھی لافانی ہے یہاں کاروبار کرنے والے جی کھول کے کاروبار کرنے کے ساتھ حکومتی خزانے کو بھرنے کو بھی ترجیح دیتے ہیں چاہے انہیں سہولیات ملیں یا نہ ملیں کھربوں روپے کے مختلف نوعیت کے ٹیکسز دینے کے باوجودکراچی سالانہ 7 فیصد بھی اپنی بہتری کیلئے حاصل نہیں کرپاتا دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اسے ریونیو جنریشن کے تمام لوازمات فراہم کئے جاتے ہیں سب سے پہلے انفراسٹرکچر اور بعدازاں سیکورٹی صورتحال کو ترجیح دیکر شہر ترقی حاصل کرتے رہے مگر کراچی الٹ صورتحال سے دوچار ہےمحسوس یہ ہوتا ہے کہ کراچی کو غیر محسوس طریقے سے غیر مستحکم رکھا جارہا ہے کیونکہ کراچی کا استحکام پاکستان کے استحکام کی گارنٹی ہے یہ حساس موضوع ہے جس کو ارباب اختیار کو دیکھنا ،سوچنا اور اس میں ملوث عوامل کا خاتمہ کرنا ہوگا پاکستان ہماری رگوں میں دوڑتے لہو کی طرح ہے اور اس کی شریانیں کراچی سے منسلک ہیں کیوں نہ ایسا سوچا جائے کہ کراچی کا تین ماہ کا ریونیو کراچی پر ہی لگا دیا جائے تو کراچی کا ریونیو جنریشن بھی بڑھ جائیگا اور معاشی انجن کے طویل عرصے تک چلنے کی استطاعت بھی بڑھ جائے گی اور آرٹیکل 149 کے شوشے بھی چھوڑنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی .

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

آرٹیکل 149 کا شوشا کارگر نہ ہوسکا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں