دار الصحت ہسپتال سیل کرنے پر اظہار تشویش

ترجمان ایم کیوایم پاکستان کادار الصحت ہسپتال سیل کرنے پر اظہار تشویش

ہسپتال کا انتظام بہتر ہو اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی یقینی بنانی جائے تاکہ معصوم نشوہ جیسے انتہائی افسوسناک واقعہ نہ ہو سکے، اسے سیل کیا جانا مسئلے کا حل نہیں۔ ترجمان ایم کیوایم پاکستان

معصوم نشوہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر متاثرہ خاندان سے پہلے روز سے مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ترجمان ایم کیوایم پاکستان

عصمت جونیجو جیسی معصوم بچی کی عصمت دری ایک لرزہ خیز واقعہ ہے جو قابلِ مذمت ہونے کے ساتھ ساتھ گھناؤنا بھی ہے ۔ترجمان ایم کیوایم پاکستان

عصمت جونیجو کیس ایک سرکاری ہسپتال میں ہوا لیکن ابھی تک سندھ حکومت نے کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا میں ۔ترجمان ایم کیوایم پاکستان

سرکاری ونجی ہسپتالوں میں جانچ پڑتال اور علاج کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ ترجمان ایم کیوایم پاکستان

ہیلتھ کیئر کمیشن کو ایک موثر اور سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ادارہ بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی ترامیم پر کام کر رہے ہیں لیکن بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے جو سیاسی بنیادوں پر اٹھائے گئے نمائشی اقدامات میں مصروف ہے – ترجمان

اسپتالوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد ان کا معیار بہتر بنانے کے بجائے سیل کرنے کا سلسلہ چل پڑا تو عوام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ترجمان ایم کیوایم پاکستان

دارلصحت اسپتال میں قرب وجوار سے سینکڑوں مریض روزانہ علاج کرانے آتے ہیں حکومت نے اسے سیل کرتے ہوئے ان مریضوں کے لئے کیا متبادل انتظام کیا ۔ترجمان ایم کیوایم پاکستان

ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ کی سنگین غفلت کی سزا ملحقہ میڈیکل کالج کے پروفیسر کی گرفتاری کس طور ہو سکتی ہے؟ کیا صوبے بھر میں ایسی شکایات پر ہسپتال و کلینک سیل کئے جائیں گے؟ ترجمان ایم کیوایم پاکستان

Whats-App-Image-2020-08-12-at-19-14-00-1-1
upload pictures to the internet

دار الصحت ہسپتال سیل کرنے پر اظہار تشویش” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں